حضرت حسیںن کےفضائل حدیث کی روشنی میں


حضرت
حسین بن علی رضی اللہ عنہما

رسول اللہ ﷺ کےنواسے اور حضرت علی و حضرت فاطمہؓ زہرا کے چھوٹے صاحبزادے حضرت حسینؓ کی ولادت شعبان ۴؁ھ میں ہوئی ، آپ ﷺ نے ہی ان کا نام حسین رکھا ، ان کو شہد چٹایا ، ان کے منہ میں اپنی زبان مبارک داخل کر کے لعاب مبارک عطا فرمایا اور ان کا عقیقہ کرنے اور بالوں کے ہم وزن چاندی صدقہ کرنے کا حکم دیا ۔  

 حضرت حسنؓ اورحضرت حسین شکل وصورت میں رسول اللہ ﷺ کے مشابہ تھے اور آپ ﷺ کو ان دونوں سے غیر معمولی محبت تھی۔جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت حسین کی عمر صرف چھ یا سات سال تھی ، لیکن یہ چھ سات سال آپ کی صحبت اور شفقت و محبت میں گذرے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ نے خاص لطف و کرم اور محبت کا برتاؤ کیا ۔ حضرت عمرؓ کے آخری زمانہ خلافت مں آپ نے جہاد میں شرکت شروع فرمائی اور پھر بہت سے معرکوں میں شریک رہے ۔ حضرت عثمانؓ کے زمانہ میں جب باغیوں نے ان کے گھر کا محاصرہ کر لیا تو حضرت علیؓ نے اپنے دونوں بیٹوں حسنؓ اور حسینؓ کو ان کے گھر کی حفاظت کے لئے مقرر کر دیا تھا ۔ حضرت علیؓ کی شہادت کے بعد حضرت حسنؓ نے جب حضرت معاویہؓ سے مصالحت کر کے خلافت سے دستبرداری کے ارادہ کا اظہار کیا تو حضرت حسینؓ نے بھائی کی رائے سے اختلاف کیا لیکن بڑے بھائی کے احترام میں ان کے فیصلہ کو تسلیم کر لیا ۔ البتہ جب حضرت حسنؓ کی وفات کے بعد حضرت معاویہؓ نے یزید کی خلافت کی بیعت لی تو حضرت حسینؓ اس کو کسی طرح برداشت نہ کر سکے اور یزید کے خلیفہ بن جانے کے بعد جہاد کے ارادہ سے مدینہ طیبہ سے کوفہ کے لئے تشریف لے چلے ابھی مقام کربلا ہی تک پہنچے تھے کہ واقعہ کربلاپیش آیا اور آپ وہاں شہید کر دئیے گئے ۔ رضی اللہ عنہ وارضاہ ۔ تارخ شہادت ۱۰ محرم ۶۱ھ ہے۔شہادت کےوقت عمر تقریباً ۵۵ سال تھی۔


حضرت حسینؓ کے فضائل و مناقب

حضرت حسن اورحضرت حسین رضی اللہ عنھماکےاکثروبیشترفضائل مشترک ہیں۔رسول اللہ ﷺ کے نواسے اور آپ کے صحابی ہونے کا شرف ہی شرف عظیم ہے پھر آپ ﷺ کو حضرات حسنین رضی اللہ عنہما سے بہت محبت بھی تھی ۔ شفقت و محبت کا یہ عالم تھا کہ یہ دونوں بھائی بچپن میں حالت نماز میں آپ کی کمر پر چڑھ جاتے کبھی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں سے گزرتے رہتے اور آپ نماز میں بھی ان کا خیال کرتے ۔ جب تک وہ کمر پر چڑھے رہتے آپ سجدہ سے سر نہ اٹھاتے ۔ آپ اکثر انہیں گود میں لیتے ، کبھی کندھے پر سوار کرتے ، ان کا بوسہ لیتے انہیں سونگتے اور فرماتے انكم لمن ريحان الله (تم اللہ کی عطا کردہ خوشبو ہو ۔ ) ایسے ہی ایک موقعہ پر حضرت اقرع ابن حابس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) میرے تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے آج تک کسی کا بوسہ نہیں لیا ۔ آپ نے فرمایا انه من لا يرحم لا يرحم ۔ (جو رحم نہیں کرتا اس پر بھی من جانب اللہ رحم نہیں کیا جاتا ۔)

آیت تطہیر کے نزول کے بعد آپ نے حضرت علیؓ ، حضرت فاطمہؓ اور حضرات حسنینؓ کو اپنی چادرمیں داخل فرما کر اللہ سے عرض کیا اللهم هؤلاء اهل بيتى فاذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا ۔ ( اے اللہ یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے گندگی کودورفرما دیجئے اور پاک و صاف کردیجئے

صحیح بخاری میں حضرت عدی بن ثابتؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت حسنؓ کو اپنے کندھے پر سوار کئے ہوئے تھے اور یوں دعا کر رہے تھے اللهم ابنى احبه فاحبه ، اے اللہ یہ مجھے محبوب ہے آپ بھی اسے اپنا محبوب بنا لیجئے 

امام بخاری نے ہی حضرات حسنینؓ کے مناقب میں حضرت ابن عمرؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ان سے کسی عراقی نے مسئلہ دریافت کیا کہ اگرکوئی حالت احرام میں مکھی مار دے تو کیا کفارہ ہے ۔ حضرت ابن عمرؓ نے بڑی ناگواری سے جواب دیا کہ اہل عراق مکھی کے قتل کا مسئلہ پوچھنے آتے ہیں اور نواسہ رسول اللہ ﷺ کو قتل کر دیا حالانکہ آپ نے اپنے دونوں نواسوں کے بارے میں فرمایا تھا ھما ریحانتای من الدنیا ۔ (یہ دونوں میرے لئے دنیا کی خوشبو ہیں ۔

 امام ترمذی نے حضرت اسامہ بن زید کی حدیث ذکر کی ہے کہ میں کسی ضرورت سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپ گھر کے باہر اس حال میں تشریف لائے کہ آپ ﷺ دونوں کوکھوں پر  کچھ رکھے ہوئے تھے اور چادر اوڑھے ہوئے تھے ، میں جب اپنے کام سے فارغ ہو گیا تو عرض کیا یہ کیا ہے آپ ﷺ نے چادر ہٹا دی میں نے دیکھا کہ ایک جانب حسنؓ اور دوسری جانب حسینؓ ہیں ، اور فرمایا ۔ هذان ابنى وابنا ابنتى اللهم من احبهما فاحبهما واحب من يحبهما ۔  اے اللہ میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں آپ بھی ان سے محبت فرمائیے اور جو ان سے محبت کرے اس کو بھی اپنا محبوب بنا لیجئے ۔ “اللهم انى احبهما فاحبهما” اے اللہ میں ان دونوں کو محبوب رکھتا ہوں آپ بھی ان کو اپنا محبوب بنا لیجئے کہ دعائیہ کلمات صحیح سندوں سے حدیث کی کئی کتابوں میں مروی ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ آپ کے یہ دونوں نواسے اللہ کے بھی محبوب اور اللہ کے رسول کے بھی محبوب اور ان دونوں سے محبت رکھنے والے بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے محبوب ہیں ، ایک بار ایسا ہوا کہ آپ خطبہ دے رہے تھے ، دونوں نواسے آگئے آپ نے خطبہ روک کر ان دونوں کو اٹھا لیا اور اپنے پاس بٹھایا پھر باقی خطبہ پورا کیا ۔

امام ترمذی نے حضرت یعلی بن مرہؒ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حسين منى وانا من حسين احب الله من احب حسينا حسين سبط من الاسباط ۔ 

ترجمہ : حسین میرے ہیں اور میں حسین کا ، جو حسین سے محبت کرے اللہ اس سے محبت کرے حسین میرے ایک نواسے ہیں ۔

حسين منى وانا من حسين کے کلمات انتہائی محبت ، اپنائیت اور قلبی تعلق کے اظہار کے لئے ہیں ، اس کے بعد دعائیہ کلمات ہیں جومتعدد روایات میں مذکور ہیں اس مضمون کی کئی روایات امام ترمذی نے مناقب الحسن والحسین کے عنوان کے تحت ذکر کی ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کی والدہ کو سيدة نساء اهل الجنة اور دونوں بھائیوں کو سيدا شباب اهل الجنة فرمایا ہے ۔  رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام خصوصاً حضرات شیخین کا معاملہ بھی ان دونوں حضرات کے ساتھ بہت ہی لطف و کرم کا رہا ۔

حضرت عمر فاروقؓ نے اپنےزمانہ خلافت میں دونوں بھائیوں کا وظیفہ اہل بدر کے وظائف کے بقدر پانچ پانچ ہزار درہم مقرر کیا اور اس کی وجہ رسول اللہ ﷺ کی قرابت بیان کی ۔  حالانکہ یہ دونوں حضرات ان کے دور خلافت کے آخر میں بھی بالکل نوجوان ہی تھے حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت کا واقعہ ہے کہ وہ مسجد نبوی ﷺ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے حضرت حسینؓ آئے اور حضرت عمرؓ کو مخاطب کر کے کہا ، میرے باپ (نانا جان) کے منبر سے اترو اور اپنے والد کے منبر پر جا کر خطبہ دو ، حضرت عمرؓ نے کہا میرے باپ کا تو کوئی بھی منبر نہیں ہے یہ کہا اور ان کو اپنے پاس منبر پر بٹھا لیا اور بہت اکرام اور لطف و محبت کا معاملہ کیا ۔  انہیں حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں یمن سے کچھ حلے (جوڑے)آئے ، آپ نے وہ صحابہ کرامؓ کے لڑکوں میں تقسیم کر دئیے اور حضرات حسینؓ کے لئے ان سے بہتر حُلے منگوائے اور ان دونوں بھائیوں کو دئیے اور فرمایا اب میرا دل خوش ہے ۔

یہدونوں کثیر الروایت نہیں لیکن پھر بھی براہ راست رسول اللہ ﷺ اور اپنے والدین سے احادیث رسول اللہ ﷺ بیان کرتے ہیں ۔ حضرت حسنؓ اور حضرت حسینؓ دونوں بھائی بہت ہی عبادت گزار تھے ، دونوں نے بار بار مدینہ سے مکہ تک پیدل سفر کر کے حج کئے ہیں ۔  اللہ کے راستہ میں کثرت سے مال خرچ کرتے تھے ۔ جودوسخا ، ماں باپ اور نانا جان سے وراثت میں ملی تھی ۔

  رضی اللہ عنہما وارضاہما ۔

Comments